!ہزاروں ماتھے کٹے تب یہ جھومر بنا

               تحریر : احمد سجاد بابر

                           

                                     عشق وآزادی بہار زیست کا سامان ہے 
                                     زندگی ہے عشق ، آزادی پر میرا ایمان ہے  
                                    عشق پر کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی 
                                    لیکن آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے 

چودہ اگست ،ہاں ! یہی تو و ہ دن ہے جس دن ظلمت کی سیاہ رات ڈھلی تھی اور روشن نکھرا نکھر اسویرا طلوع ہوا تھا ۔جب غلامی کی آہنی زنجیریں پگھل گئی تھیں اور قفس کی سلاخیں ٹوٹ گئی تھیں جس دن جہد مسلسل کو آرام ملا تھا ،خوابوں کی تعبیر نصیب ہوئی تھی ،پژمردہ جسموں کو حیات نوکی نوید ملی تھی اور محکوم قوم کو آزادی جیسی نعمت نصیب ہوئی تھی ،یہی وہ دن ہے جب خاور مشرق نے ایک نئے پیغام کے ساتھ افق سے جھانکا تھا ۔جب صحن گلشن میں صباءا ٹکھلیاں لے لے کر چلی تھی ،جب نسیم صبح وطن کی مست خرامی میں ایک نیا بانکپن صاف محسوس کیا جاتا تھا ، جب کوئل کی کو کو اور چڑیوں کی چوں چوں نغمے بجاتی محسوس ہوتی تھیں اور چودہ اگست ہی وہ دن ہے جس دن ہر پاکستانی کی آنکھوں میں غرور تھا اور گردن میں تناﺅ تھا جس دن قدموں میں خود اعتمادی تھی اور لہجے میں عزت نفس ٹھاٹھیں مار رہی تھی ۔بجا طور پر یہی وہ دن ہے جس دن ہمیں اپنے ہونے کی خبر ملی تھی ،عزت ملی تھی ،مان اور مرتبہ ملا تھا ۔لیکن جب آزادی کی صبح طلوع ہوتی ہے تو ہزاروں ستاروں کا خون افق مشرق کو لالہ زار بنا دیتا ہے کہکشاں کے ہزاروں موتی طلوع سحر کیلئے دعائیں مانگتے مانگتے گم سم ہوجاتے ہیں ، 14 اگست 1947 کو ہم نے بھی لاکھوں چاند اور ستاروں کی قندیلیں بجھائیں ۔ ایک بھاری قیمت تھی جو ہم نے آزادی پانے کے لیے اد اکی تھی ،ایک تاوان تھا جو ہمیں ادا کرنا پڑا تھا ،رسم شبیر ی دہرائی گئی تھی ،چمکتے چہروں کی تابانی چھنی تھی ،نیزوں کی نو کوں پر معصوم شیر خوار بچوں نے رقص آزادی کیا تھا ،پردہ نشین بیٹیوں کو ہوس کی قربان گاہ پر چڑھنا پڑا تھا ، ہاں یہی وہ دن تھا جب رقص ابلیس عروج پر تھا،معصومیت سہمی سہمی پھر رہی تھی اور ظلم وبربریت قہقے لگاتی ،دانت نکو سے خون کی ہولی کھیل رہی تھی، انسانیت کا جنازہ اٹھ رہا تھا اور شیطانیت کو شہہ مل رہی تھی ،جب کا لی دیو ی کے پجاری شیطان اور درندے بن چکے تھے ،وقت کی سانسیں تھم چکی تھیں بحر وبر دم سادھے خاموش کھڑے تھے ،زمین و فلک انگشت بد نداں تھے ،فرش تا عرش ایک سناٹا طاری تھا ،وقت کادھار اازل تاابد بہتے بہتے تھم چکا تھا ،دھرتی رو رہی تھی ،بوڑھا آسمان بے نیازی سے یہ سب تک رہا تھا ،ساگر کی لہریں سرخ ہو چکی تھیں اور نرک میں ہٹلر،چنگیز خان ،ہلاکو ،تیمور لنگ اور نادرشاہ کی روحیںشرم سے منہ چھپارہی تھیں ۔ 
   تاریخ پلٹ کر دیکھیں یہ خطہ نایاب ہمیں طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کر دیا گیا ،تاریخ کے اوراق سرخ ہوئے تھے وقت کا چہرہ لہو لہو ہوا تھا ،آنکھیں بے نور ہوئی تھیں ،ارمانوں نے کفن پہنا تھا ،جذبات دفن ہوئے تھے ،سنگیت چھنے تھے ،خواہشوں نے دم توڑا تھا ،چاند چہروں کی تابانی چھنی تھی ،سہاگ امر ہوئے تھے ،عشق آتش نمرود میں بے خطرہ کو دا تھا کلیوں کی چٹک اور ہنسی کی کھنک خزاں کی لپیٹ میں آئی تھیں ،عصمتوں کے چرا غ گل ہوئے تھے ،بڑھاپوں کے سہارے اور ماﺅں کے تار ے موت کے سنگ سنگ چلے تھے ،تب کہیں جاکر منزل ملی تھی اور دنیا کے نقشے پر ایک نقطہ ابھر اتھا ۔
   شہر در شہر گھر جلائے گئے             یوںبھی ہر طرف جشن منائے گئے 
   کیا کہوں کس طرح سر بازار         عصمتوںکے دیئے بجھائے گئے !!!
   آئیے ! تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے ماضی کے دریچوں سے جھا نکتے ہیں©© یہ© " امر تسر" شہر ہے مسلمانوں کے محلوں سے آگ کے خونیں شعلے بلند ہورہے ہیں ،گلی گلی سے " گرو گوبند کی جے "کے نعرے بلند ہورہے ہیں ،معصوم بچے ماﺅں کی لاشوں پر مردہ پڑے ہوئے ہیں ، ان کی معصوم ،بے نور آنکھیں اپنا قصور پوچھ رہی ہیں ،امن کے داعی کہاں ہیں ؟" فلسفہ عدم تشدد "کی مالا جپنے والے آج کہاں جاسوئے ہیں ؟ مسجد غزنویہ میں پڑی گیارہ نوجواں لڑکیوںکی برہنہ لاشیں " ثنا ءخوان تقدیس مشرق "کوپکار ہی ہیں ،سرحد پر دوہزار مسلم خواتین کے کپڑے اتار کرجلائے جارہے ہیں انکا برہنہ مارچ کرایا جا رہا ہے, حملہ آور چیخ رہے ہیں " پاکستان جل رہا ہے " امر تسر کی شاہراہوں پر یہ کیسی بھیڑ ہے ؟ عصمت مآب 72بیٹیوں کا عریاں جبر یہ گشت کرایا جا رہا ہے، پھر ان کے ساتھ خانہ خدا میں ہو س کا کھیل کھیلا جا تاہے ۔آسمان خاموش ہے ، زمین خاموش ہے ،ہوائیں تھمی ہوئی ہیں ،حقوق انسانیت کا کھوکھلا پر چار کرنے والے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میںمحو آرام ہیں ، وزیر داخلہ " ولبھ بھائی پٹیل "کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ہے اور جہنم میں چنگیز خان اورہلاکو خاںچلو بھر پانی کی التجا کررہے ہیں ۔ الہی آنکھوں نے یہ سماں کیسے دیکھا ہوگا ؟ دلوں میں برداشت کا مادہ کیسے آیا ہوگا ؟ ضمیر کیسے مرا ہوگا ؟
   "براس"نامی قصبے کی چھ ہزار آبادی پر ستمبر کی صبح اذان کے بعد حملہ کر دیاجاتا ہے اور ایک بچہ بھی زندہ نہیں بچتا ۔کنویں ،جوہڑ ،پاکدامن بیبیوں کی لاشوں سے بھر جاتے ہیں ،سڑک پر پھول جیسے بچوں کی معصوم لاشیں بکھری پڑی ہیں ،کتے اور گدھ لاشیں کھا کھا کر بے زار ہوجاتے ہیں ،دریاﺅ ں کا پانی سرخ ہوجاتاہے ،دوہزار مسافروں سے بھری ٹرین پر " سرہند "میں حملہ کردیا جاتا ہے ،ٹرین خاک وخون میںلتھڑی " انبالہ چھاونی "پہنچتی ہے ،ڈبے لاشوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں ،اسی طرح ایک گاڑی کے تیرہ ہزار مسافروں پر حملہ کردیا جاتاہے اور صرف پندرہ مسافر زندہ بچ سکے ۔ایک قیامت کا سماں تھا جو گاڑی میں دکھائی دے رہا تھا ہرطرف لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے اور پوری ٹرین خون سے لت پت تھی۔24اگست کو لاہور میں خون سے رنگی ہوئی ٹرین نمبر 15اپ پہنچتی ہے جس کے تین ہزار مسافر وں کو ریاست پٹیالہ میں واقع " بھٹنڈا" جنکشن پر بے دریغ تہ تیغ کردیا جاتا ہے اور صرف آٹھ مسافر زندہ بچ پاتے ہیں ۔
   امر تسر شہر کے جنوب کی جانب گردنیں اور پستان کاٹ کر تار کی مددسے " جے ہند "لکھا ہواتھا اسی طرح لاہور کے مسلمانوں کوعید الفطر کے موقع پر مسلم خواتین کی کٹی ہوئی چھاتیو ں کے ہار تحفے میں بھیجے گئے ۔خالصہ کالج امر تسر اور دربار صاحب اسلحے کے ڈپو بن چکے تھے ۔ خالصہ کالج میںماہ جولائی سے وسط اکتوبر تک لاتعداد بے گناہ قتل کئے گئے ۔ریاست کپور تھلہ میں مسلمان 68فیصد تھے جبکہ آج وہاں ایک بھی مسلمان نہیں ملے گا ۔پٹیالہ میں 25ہزار مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا ۔بہار ،برار ،مدراس اوربمبئی سے 10لاکھ مسلمانوں کو زبردستی گھروں سے نکال دیا گیا ۔پٹیالہ ،فرید کوٹ ،جینداور شملہ کی پہاڑیوں سے مسلمانوں کا نام تک مٹادیا گیا ۔دہلی موت کا گھر بن گیا ۔ ہرسڑک پر خون ہی خون ،لاش ہی لاش ،آگ کے شعلے ،درد وکرب میں ڈوبی چیخیں ،گولیوں کے دھماکے ،دھوئیں کے مر غولے عام تھے ، مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بے قیمت ہوگیا تھا اور ان کی جان اور آبرو کی قیمت اتنی بھی نہ رہی تھی جتنی کہ کتے بلی کی ہوتی ہے ۔قرول باغدہلی کے ایک اسکول میں بچے امتحان دے رہے تھے وہاں چند ہندو جیالے اور سکھ تلواریں سونت کر پہنچ گئے ،حکم ہو اکہ ہندو لڑکے الگ ہوجائیں اور مسلمان لڑکے الگ،اسکے بعد ان سورماﺅں نے سوسے زائد مسلما ن بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ،تین چار دن میں دہلی کے اندر 40ہزار بے گناہ مسلمان شہید کردئے گئے ۔
   کھنگرالی میں مسلمانوں کی آبادی 8ہزار کے قریب تھی ان پر تین ہزار کے قریب سکھوںکے ہجوم نے رائفلوں ،پستولوں ،بھالوں سے مسلح ہو کر حملہ کردیا ،محصورین کے پاس تین درجن رائفلیں تھیں مگر انہیں استعمال کرنے کا موقع نہ ملا ،تین ہزار مسلمان شہید اور سینکڑو ں زخمی ہوئے ،سینکڑوں نوجوان لڑکیوں کو اغواءکر لیا گیا ۔
   جﺅ ماجرہ ،ضلع لدھیانہ کے چار ہزار مسلمانو ں میں سے صرف 23 زندہ بچ کر لدھیانہ پہنچ سکے تھے ۔ 
   سکھ لیڈر " ماسٹر تارا سنگھ "نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر نیام سے تلوار کھینچ کر کہا تھا کہ کوئی بچہ بھی بچ کر پاکستان نہ جانے پائے اور سکھ اس قول کو نبھا رہے تھے ۔سکھ ایک ایسا پاگل بھیڑیا تھا جسے ہندوﺅں نے مسلمانوں پر چھوڑ دیا تھا انڈین آرمی انکے ساتھ تھی اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل ان کی پشت پر تھا تقریباً 10لاکھ مسلمان شہید ہوگئے ،اندازً 60ہزار عورتوں کو اغواءکر کے آبرو ریزی کی گئی اور ایک کروڑ کے قریب مسلمان اس قیامت کی لپیٹ میں آگئے ۔لاتعداد تاریخی عمارات ،مساجد ،مزارات کی بے حرمتی کی گئی انہیں مندروں تبدیل کردیا گیا ۔ اجمیر شریف میں حضرت خواجہ اجمیری کی درگاہ پر حملے کر کے ہزاروں مسلمان شہید کردیئے گئے ۔ہندﺅوں اورسکھوں کی مشترکہ سازش کے نتیجہ میں شمالی ہند خصوصاً مشرقی پنجاب اور دہلی میںظلم و ستم اور قتل غارت کا وہ بازار گرم ہوا کہ اسکے سامنے چنگیز خان و ہلاکو خان کی تباہ کا ریاں ہیچ معلوم ہوتی ہیں ،مسلمانوںکوا پنی چودہ سو سالہ تاریخ میںپانچ بار آگ و خون کے دریاﺅںاور سمندروں سے گزرنا پڑا ہے زوال بغداد ،سقوط اندلس ،آفت فلپائن ،المیہ دہلی و مشرقی پنجاب اور سانحہ مشرقی پاکستان ۔ان تمام سانحات میں لاکھوںمسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں عورتوں کی عصمتیں برباد ہوئیں ۔ہندو بذات خود ایک بزدل مگر مکارقوم ہے جوخون کرنا تو درکنار خون دیکھ بھی نہیں سکتا ۔ انہوںنے سکھوں کو مسلمانوںکے خلاف بھڑکایا اور گرو گوبند کے دو بیٹوں کو دیوار سر ہند میں چنو ائے جانے کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دے کرسکھوں کے کان بھرے، سکھوں اور مسلم حکمرانوں کے تعلقات اچھے کبھی نہیں رہے مگر اس میں بھی ہندوﺅں کا عمل زیادہ تھا جو دونوں طر ف کان بھرتے رہتے تھے۔ سکھوں کو جب موقع ملا ،انہون نے اپنی نفرت کا دل کھول کا اظہار کیا ۔"بندہ سنگھ بیرا گی " اور " ہری سنگھ نلوہ "نے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا ،مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کے جانشینوں کے دور میں مسلمانوں پر جو ظلم کئے گئے ان کی تفصیلات پڑھ کر آج بھی انسان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ،لاہور میںشہنشاہ اور نگ زیب کی تعمیر کر دہ بادشاہی مسجد کے میناروں اور گنبدوں کو شاہی قلعہ سے برجوں پر توپیں چڑھا کر انہیںگولہ باری سے منہدم کردیا گیا ،بارہ دری کا حلیہ تبدیل کرکے اسے حضوری باغ کا نام دیا گیا ،جہانگیر کا مقبرہ اور شاہی قلعے کو نقصان پہنچایا ۔ غرضیکہ ،سکھ مسلمانوں کے لیے قطعی نرم گوشہ نہ رکھتے تھے ۔1947 ءمیں سکھوں نے ظلم وبربریت کی وہ مثال قائم کی کہ انسانیت سسک اٹھی، سکھوں نے بے گناہ مردوںعورتوںاور بچوں کو گھروںمیںزندہ جلا دیا ،شیر خوار بچوںکواوپر اچھال کرانہیں نیزوں کی نوکوںمیںپرویا ،مسلمان مردوں اور عورتوں کے سر کاٹ کر ان سے "جے ہند "اور "پاکستان مردہ باد "لکھا ،برہنہ عورتوں کے جلوس نکالے ،بر سرعام مسلمانوں کی عزت سے کھیلے حتی کہ مردہ عورتوں کی بے حرمتی سے بھی گریز نہ کیا ۔
   الغرض مسلمانوں پر مختصر سے عرصہ میں وہ آفتیں گزریںکہ جنکی مثال زوال بغداد سقوط غرناطہ میںہی ملتی ہیں ۔غرضکہ یہ ایک آنسوﺅں ، آہوں ،کراہوں ، چیخوںمیں ڈوبی ایسی خونی داستان ہے جسے پڑھنا بھی ممکن نہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل ان قربانیوں کو یاد رکھے، معصوم بچوں کی نوچی ہوئی لاشوں کو نہ بھولے،اسلام کی پردہ نشین بیٹیوں کی چیخیں فراموش نہ کرے ،عصمتوں کے لہو سے روشن تاریخ نہبھولے ،ان کنوﺅں کو یاد رکھے جنہوں نے امت محمدی ﷺ کی آبرو کے موتی اپنی تہوں میں سموئے تھے ۔مچلتے ارمانوں اور سسکتی عفتوں کا خون یاد رکھے ،چمکتے چہروں کی گمشدہ تابانیوں کو یاد رکھے اور ان زخموں کو وقتاً فوقتاً کریدتی رہے ،ان زخموں کو بھرنے نہ دے ،جب تک یہ زخم ہرے رہیں گے خون شہیداں سر چڑھ کر بولتا رہے گا !!!

Read More

Press

Stay in the Know

Open Book

A Revolutionary Language Research Center

April 12, 2025

School LIbrary

Top Discoveries of the Decade

April 12, 2025

Exciting Findings at Nohra Pakistan

April 12, 2025

Student in Library

A Revolutionary Language Research Center

April 12, 2025

Typewriter Keys